‏تم سلامت رہو ہزار برس ہر برس
کے ہوں دن پچاس ہزار

‏عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

یہ جو مہلت جسے کہے ہیں عمر
دیکھو تو انتظار سا ہے کچھ

.‏لوگ اکڑ کر ایسے جیتے ہیں
جیسے آبِ حیات پیتے ہیں

تجھی پر کچھ اے بت نہیں منحصر
جسے ہم نے پوجا خدا کر دیا

جانے کہاں بسے گی تُو
جانے کہاں رہوں گا میں

‏تتلیاں پکڑنے میں دور تک نکل جانا
کتنا اچھا لگتا ہے پھول جیسے بچوں پر

‏سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی

موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

‏وہ کہتے ہیں عشق کی وضاعت کریں
ہم کہتے ہیں فقط محبوب کی اطاعت کریں

خود میں تو سنجیدہ ہوں پر
دُنیا کے لیئے مزاق ہوں میں

‏اپنے میں مگن ہیں، سبھی کو اپنا ہی غم ہے
بے زار میں اپنوں سے، پرایوں سے ہوا ہوں

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تُو مگر کہاں

دل کی دعا لو
دل کی آہ نہ لو

تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے

کہاں سے لاؤں ہر روز اک نیا دل
توڑنے والوں نے تو تماشہ بنا رکھا ہے

آتے آتے میرا نام سا رہ گیا
اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

عامر نہ کر جیت کی لگن اب
جانے کب کا ہے تو ہار آیا

پھر کہی بھی پناہ نہیں ملتی
محبت جب بے پناہ ہوجائے

نہ جانےکون تھاکہاں سےآیاتھا
جو اصغرکودیوانہ بنا گیا ہے

میرا ہی نہیں، تمہارا بھی ہے یہی حال
اب بھی میرے دیدار کو ترستے تم ہو

 

3 COMMENTS

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here