Ahmad Faraz poetry

کسی بیوفا کی خاطر یہ جنون فراز کب تک جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ

ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے ابھی ہے دور سحر تھوڑی دور ساتھ چلو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز ظالم اب کے بھی نہ رویے گا تو مر جائے گا

دل بھی پاگل ہے کے اس شخص سے وابستہ ہے جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

مگر کسی نے ہمیں ہم سفر نہیں جانا یہ اور بات ہے کے ہم ساتھ ساتھ سب کےگئے

مجھ کو خود اپنے آپ سے شرمندگی ہوئی وہ اس طرح کے تجھ پہ بھروسہ بلا کا تھا

 

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم کے تو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک دنیا تھی

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top